رائٹرز کی تازہ گلوبل مارکیٹس ویو رپورٹ کے مطابق عالمی مالیاتی منڈیاں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتیں، بانڈ ییلڈز میں اضافہ، اور مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال نے سرمایہ کاروں میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کار امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ (Reuters)
تیل کی قیمتیں عالمی معیشت کے لیے خطرہ
موجودہ صورتحال میں تیل کی قیمتیں سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہیں۔ اگرچہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی امید نے وقتی سکون دیا، لیکن خام تیل اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر موجود ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جاری کشیدگی عالمی توانائی سپلائی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔ (Reuters)
بانڈ ییلڈز میں تاریخی اضافہ
گلوبل مارکیٹس ویو کے مطابق امریکی ٹریژری بانڈ ییلڈز کئی سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ بڑھتی ہوئی ییلڈز اس بات کا اشارہ ہیں کہ سرمایہ کار مہنگائی اور بلند شرح سود کے طویل عرصے تک برقرار رہنے سے خوفزدہ ہیں۔ اس صورتحال سے کاروباری سرگرمیوں اور صارفین کے اخراجات متاثر ہو سکتے ہیں۔ (Reuters)
اسٹاک مارکیٹس میں مندی کا رجحان
دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار ہیں۔ ڈاؤ جونز، نیسڈیک، اور ایس اینڈ پی 500 سمیت کئی بڑے انڈیکسز میں کمی دیکھی گئی۔ ایشیائی مارکیٹس میں بھی شدید فروخت کا رجحان سامنے آیا، خاص طور پر ٹیکنالوجی سیکٹر میں۔ (Reuters)
این ویڈیا کی آمدنی رپورٹ پر نظریں
ٹیکنالوجی کمپنی Nvidia کی آمدنی رپورٹ سرمایہ کاروں کے لیے اہم ترین موضوع بن چکی ہے۔ ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت میں بڑھتی سرمایہ کاری کے باعث این ویڈیا کی کارکردگی پورے ٹیکنالوجی سیکٹر پر اثر ڈال سکتی ہے۔ (Reuters)
مہنگائی کے خدشات بدستور برقرار
تازہ گلوبل مارکیٹس ویو کے مطابق مہنگائی اب بھی عالمی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ توانائی کی بلند قیمتیں اور جغرافیائی کشیدگی مرکزی بینکوں کے لیے نئی مشکلات پیدا کر رہی ہیں۔ (Reuters)
سرمایہ کار محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے
سرمایہ کار اب امریکی فیڈرل ریزرو کے آئندہ فیصلوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ اگر شرح سود میں مزید اضافہ کیا گیا تو مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ (Reuters)
نتیجہ
تازہ گلوبل مارکیٹس ویو واضح کرتی ہے کہ عالمی معیشت ایک نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ مہنگائی، تیل کی قیمتیں، بانڈ ییلڈز، اور سیاسی کشیدگی نے عالمی سرمایہ کاروں کو شدید پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ آنے والے ہفتوں میں عالمی مالیاتی منڈیوں میں مزید غیر یقینی صورتحال دیکھنے کو مل سکتی ہے۔ (Reuters)
