ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی نظام کی بڑی تنظیمِ نو

dnewsurdu
By
3 Min Read

ملائیشیا کی حکومت نے غیر ملکی کارکنوں کے انتظامی نظام کو مزید مربوط، مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے اہم اصلاحات کا اعلان کیا ہے۔ نائب وزیرِ اعظم داتوک سری ڈاکٹر احمد زاہد حمیدی کی زیرِ صدارت کابینہ کی غیر ملکی کارکنان کمیٹی کے خصوصی اجلاس میں متعدد اہم فیصلے کیے گئے جن کا مقصد انتظامی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا، قومی سلامتی کو مضبوط بنانا اور مقامی افرادی قوت کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔

اہم فیصلے

حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کے لیے قائم ون اسٹاپ سینٹر کو وزارتِ انسانی وسائل کی نگرانی میں منتقل کیا جائے گا تاکہ مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ، تیز تر کارروائی اور زیادہ مؤثر نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔

اس کے ساتھ ساتھ حکومت صنعتوں کی حقیقی ضرورت کے مطابق غیر ملکی افرادی قوت کی طلب کا ازسرِنو جائزہ لے گی تاکہ صرف ضروری شعبوں میں ہی بیرونی کارکنوں کی خدمات حاصل کی جائیں۔

مقامی افرادی قوت پر توجہ

حکومت نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مستقبل میں غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کم کیا جائے گا۔ اس مقصد کے لیے مقامی افراد کی ملازمتوں میں شمولیت بڑھانے، ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے اور صنعتوں میں آٹومیشن کو فروغ دینے پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔

صنعتوں کے لیے کیا تبدیلی آئے گی؟

ماہرین کے مطابق نئے اقدامات سے کاروباری اداروں کو زیادہ منظم اور واضح طریقۂ کار ملنے کی توقع ہے۔ اگرچہ ابتدائی مرحلے میں بعض کمپنیوں کو نئی شرائط کے مطابق خود کو ڈھالنا پڑ سکتا ہے، تاہم طویل مدت میں اس سے بھرتیوں کا نظام زیادہ شفاف اور مؤثر بننے کا امکان ہے۔

حکومتی مؤقف

نائب وزیرِ اعظم احمد زاہد حمیدی کے مطابق حکومت ایسا نظام قائم کرنا چاہتی ہے جو صنعتوں کی ضروریات، قومی سلامتی اور ملائیشین شہریوں کے روزگار کے درمیان متوازن ہم آہنگی پیدا کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام فیصلے قومی مفاد اور عوامی فلاح کو مدِنظر رکھ کر کیے جا رہے ہیں۔

آئندہ کیا ہوگا؟

حکومت کی جانب سے توقع ہے کہ نئی انتظامی اصلاحات مرحلہ وار نافذ کی جائیں گی۔ متعلقہ وزارتیں اور سرکاری ادارے صنعتی نمائندوں کے ساتھ مشاورت جاری رکھیں گے تاکہ پالیسی پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ دیگر امیگریشن اور غیر ملکی ملازمت سے متعلق پالیسیوں میں بھی حالیہ عرصے کے دوران متعدد تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں، جن میں ملازمتی شرائط اور بعض ویزا قواعد شامل ہیں۔

Share This Article